حضُورنبیِّ رَحْمت شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی’’محمد‘‘ہے۔ دیگرآسمانی کتابوں میں آپ کا نام ’’احمد‘‘ مذکورہے جبکہ قراٰن واَحادیث وسیرت کی کتب میں آپ کےسینکڑوں صفاتی نام ذِکْرکئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
حُضُور سرورِ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات حُسن و کمال کا سَرچشمہ ہے۔ کائنات کے حُسن کا ہر ہر ذرّہ دہلیزِ مصطفےٰ کا ادنیٰ سا بھکاری ہے۔ زمانے کی تمام چمک دمک
یعنی حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نےسب سےپہلا غزوہ مقامِ اَبْوَا میں فرمایا۔
شقِ حقیقی سے مراداللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبتِ کامل ہے ،یہ دولت بے بہا جس کے خزانۂ دل میں جمع ہوجاتی ہے
حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی مبارَکہ کا ہر گوشہ ہر طرح سے کامل و اکمل ہے جس طرح علم وحلم، عَفْو و دَرگزر، زہد و تقویٰ، عدل و انصاف وغیرہ میں آپ کا کوئی
اشقانِ رسول نے رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز کے ذکر کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کتبِ سیرت میں ہمیں جہاں