Book Name:Aaqa Kareem Ki Ummat Say Muhabbat

نے انہیں  تمام حال بتایا اور غمِ اُمّت کا اظہار کیا ۔ حضرت جبریل ِامین  عَلَیْہِ السَّلَام  نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ اے اللّٰہ کریم! تیرے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ یہ فرماتے ہیں اور اللّٰہ پاک خوب جاننے والا ہے۔ اللّٰہ پاک نے حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام  کو حکم دیا کہ جاؤ اور میرے حبیب(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ)سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی اُمّت کے بارے میں  عنقریب راضی کریں  گے اور آپ کے قلب مبار ک کو رنجیدہ نہ ہونے دیں  گے۔ (مسلم ، کتاب الایمان ، باب دعاء النبی لامتہ... الخ ، ص۱۰۹ ، حدیث : ۴۹۹)

اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں : “ جانِ برادر!تُو نے کبھی سُنا ہے کہ جس کو تجھ سے اُلفت ِصادِقہ(سچی مَحَبَّت)ہے اورپھر محبوب بھی کیسا ، جانِ ایمان وکانِ احسان(ایمان کی جان اور بھلائی کا خزانہ) ، جس کے جمالِ جہاں  آراء(جہاں کوسجانے والی خوبصورتی)کا نظیر (مِثل)کہیں  نہ ملے گا اور خامَۂ قدرت (یعنی تقدیر کے قلم )نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گا ، کیسا محبوب ، جسے اس کے مالک نے تمام جہاں کے لئے رحمت بھیجا ، کیسا محبوب ، جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا باراُٹھالیا ، کیسا محبوب ، جس نے تمہارے غم میں  دن کاکھانا ، رات کا سونا ترک کردیا ، تم رات دن اس کی نافرمانیوں  میں  مُنہَمِک(بہت مصروف)اورلَہْو ولَعب(کھیل کُود)میں  مشغول ہو اوروہ تمہاری بخشش کے لئے شب و روز گِریاں و مَلول(یعنی دن رات روتے اور غمگین رہتے ہیں)۔ شب ، کہ اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہٗنے آسائش(آرام)کے لئے بنائی ، صبح قریب ہے ، ٹھنڈی نسیموں(ہواؤں) کا پنکھا ہو رہا ہے ، ہر ایک کا جی اس وقت آرام کی طرف جھکتاہے ، بادشاہ اپنے گرم بستروں  ، نرم تکیوں  میں  مست خواب ناز(آرام میں مشغول)ہے اورجو محتاج بے نوا(بے سہارا) ہے ، اس کے بھی پاؤں دوگز کی کملی (چادر) میں  دراز ، ایسے سہانے وقت ، ٹھنڈے زمانہ میں ، وہ معصوم ، بے گناہ ، پاک داماں(پاک دامن) ، عِصمت پناہ (جس کی پناہ میں پاکدامنی ہو)اپنی راحت وآسائش کو چھوڑ ، خواب وآرام سے منہ موڑ ، جبینِ نیاز(پیشانیِ اقدس کو)آستانَۂ عزت پر(بارگاہِ الٰہی میں)رکھے(ہوئے)ہے کہ الٰہی!میری اُمّت سیاہ کارہے ، درگزر فرما