Book Name:Apni Behen Kay Sath Naik Sulook Kijiye

عبادت میں کئے گئے اعمال بھی کیسے کہ دن بھر کی تلاوت اورساری ساری رات کا طواف اسے اللہ پاک کی پکڑ سے بچا نہ سکا۔ لہٰذا یاد رکھئے! اللہ پاک کی کس کے بارے میں کیا خفیہ تدبیر ہے ہم نہیں جانتے ، وہ کس عمل کے سبب بخش دے اور کس گناہ پر پکڑ فرمالےہمیں اس کا علم نہیں۔ بیان کردہ حکایت سے پتہ چلا کہ ایک نیک بندے کی  سالہا سال کی عبادت کے باوجود فقط قطعِ رحمی (رشتے داری توڑنا) بہن کی دیکھ بھال سے لاپرواہی کے گناہ کی وجہ سے عذاب کے کنویں میں قید کرلیا گیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ رشتے کاٹنے کاگناہ آج ہمارے معاشرے میں ایک تکلیف دہ بیماری بن چکا ہے۔ اس سے چھٹکارے کی بظاہر کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ کوئی اپنے باپ سے ٹکرایاہوا ہے تو کسی نے ماں سے لڑکر اپناگھر الگ بسایاہوا ہے۔ کوئی اپنے بھائی سے بگاڑ کر اپنا گھراُجاڑ بیٹھا ہے۔ توکوئی اپنی سگی بہن سے بگاڑبیٹھا ہے۔ کسی کی غیروں سے تواچھی طرح بنی ہوئی ہے مگر خالہ ماموں سے ٹھنی ہوئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے آج رشتہ کاٹ دیا جاتا ہے۔

اے عاشقانِ رسول !خراسانی شخص والے واقعے میں ہمارے لئے بہت عبرت ہے ، یاد رکھئے!ہر رشتہ دار سے تَعَلّق قائم رکھنا شرعًا واجِب ہے اور ان سے لاپرواہی اختیار کرنا ، ان سے میل جول نہ رکھنا ، خود مال دار ہونے اور ان کے غریب ہونے کی صورت میں ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا بہن فاقے برداشت کرے اوربھائی ہوٹلز کے کھانوں کے مزے لے ، بہن مال نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کی شادی نہ کرپائے اور بھائی اپنے بیٹوں کی شادیوں پر ڈھیروں ڈھیر خرچ کرے ، بہن پرانے کپڑے پہنے