Book Name:Takabbur Aur Uski Alamaat

رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : أَلْبَذَاذَۃُ مِنَ الْإیْمَانِ یعنی پُرانا لباس پہننا ایمان سے ہے۔ ([1]) جبکہ جو بہترین لباس پہننا چھوڑ دے اس کے بارے میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس نے قدرت کے باوجود اللہ پاک کے لئے عمدہ لباس چھوڑ دیا تو اللہ پاک قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔ ([2])

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یقیناً عمدہ لباس پہننے کی طاقت ہونے کے باوجود رضائے الٰہی کی خاطر نہ پہننا نفس پر بہت ناگوار ہوتا ہے ، اسی لئے تو اس پر اس قدر فضائل حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا عاجزی کی عادت بنانے کی کوشش کیجئے کہ اس کی ترغیب خود حدیثِ پاک میں موجود ہے ، چنانچہ

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اللہ کریم نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو اورتم میں سے کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے۔ ([3])

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا! عاجزی  ربِّ کریم کو پسند آتی  ہے جبھی تو اس نے لوگوں کو عاجزی اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ربِّ کریم کے اس حکم کو ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے دل و جان سے قبول کیا اور


 

 



[1]  ابوداؤد ، کتاب الترجل ، باب النہی عن کثیر من الارفاہ ، ص۱۵۲۶ ، حدیث : ۴۱۶۱

[2]  ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ، ۴ / ۲۱۷ ، حدیث : ۲۴۸۹

[3] ابن ماجہ ، کتاب الزہد ، باب البراء ۃ من الکبر و التواضع ، ۴ / ۴۵۹ ، حدیث : ۴۱۷۹